مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فوج کے کوآرڈینیشن ڈپٹی کمانڈر حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ جوانوں کی صلاحیت، عزم اور حوصلے کو دیکھ کر واضح ہے کہ ہم مردِ میدان ہیں؛ میدان میں تھے، ہیں اور رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ ہفتوں کی فوجی تربیت کے بعد جوانوں کی جسمانی آمادگی، چستی اور نظم و ضبط اس تربیت کی تاثیر کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ایران کی جوان افرادی قوت، فکری و جسمانی آمادگی اور فوجی مہارتیں اسے زمین، فضا اور سمندر میں ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے یہ صلاحیت دفاعِ مقدس، 12 روزہ جنگ اور جنگِ رمضان کے دوران بھی ثابت کی ہے۔
ایڈمرل سیاری نے مزید کہا کہ حالیہ محاذ آرائیوں سے ایران نے دشمن کی چالوں کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور مسلح افواج پہلے سے زیادہ تربیت یافتہ، مضبوط اور پُرعزم ہو کر اپنے فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمن نے کوئی اقدام کیا تو اسے ایسے جوانوں کا سامنا ہوگا جو عزم، ایمان، حوصلے اور استقامت سے سرشار ہیں، اور انقلاب کے آغاز سے اب تک کے تجربات نے ثابت کیا ہے کہ دشمن ایرانی قوم اور اس کی مسلح افواج کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
آپ کا تبصرہ